Global Editions

اب مچھر کاٹیں گے نہ ڈینگی پھیلائیں گے

زیکا اور ڈینگی وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے مچھروں کی خاص قسم کے جنیاتی کردار میں تبدیلی کے لئے تجربات جاری ہیں اور اس سلسلے میں امریکی ریاست فلوریڈا میں جلد جنیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھروں کو فضا میں چھوڑا جائیگا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس تجربے کی راہ میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہو گی۔ تاہم چند لوگ ہی جانتے ہیں کہ مچھروں کے جنیاتی کردار میں تبدیلیوں کے لئے چین اور امریکہ میں نہایت خاموشی کے ساتھ تجربات جاری ہیں۔ جنیاتی طور پر تبدیل شدہ یہ مچھر ایک مخصوص بیکٹریا کے حامل ہوتے ہیں جسے Wolbachia کہتے ہیں۔ یہ نر مچھر لاکھوں کی تعداد میں چھوڑے جائیں گے اور افعال و کردار میں تبدیلی کے باعث یہ مچھر کسی فرد کو کاٹتے نہیں ہیں اور اس طرح توقع یہ کی جا رہی ہے کہ آئندہ مچھر ڈینگی یا زیکا وائرس پھیلانے کی صلاحیت سے پیدائشی طور محروم ہونگے۔ امریکہ میں اس طرح کے مچھر کینٹکی (Kentucky) کی ایک کمپنی Mosquito Mate تیار کر رہی ہے اور ان مچھروں کو لاس اینجلس میں چھوڑا جائیگا اور اس کے بعد ان مچھروں کے تجربات نیویارک، فلوریڈا اور کینٹکی میں بھی کئے جائیں گے۔ چین میں بھی اسی ٹیکنالوجی کے تحت مچھروں کے افعال وکردار میں جنیاتی تبدیلیوں کے تجربات جاری ہیں اور یہ تجربات دنیا کی سب سے بڑی لیبارٹری میں ہو رہے ہیں جو خاص طور پر جنیاتی طور پر مچھروں کی تبدیلی کے لئے قائم کی گئی ہے اس فیکٹری کا مجموعی رقبہ 38 ہزارمربع فٹ ہے اور اس فیکٹری میں ہر ہفتہ لاکھوں کی تعداد میں جنیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھر تیار کئے جا رہے ہیں۔ مشی گن سٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر ژی آنگ ژی جو اس پراجیکٹ کا حصہ ہے کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین دونوں ممالک میں ان مچھروں پر ہونے والے تجربات کا مقصد زیکا اور ڈینگی وائرس ؎پھیلانے والے مچھر Aedes albopictus کا خاتمہ ہے۔ امریکی کمپنی Mosquito Mate کے صدر اور یونیورسٹی آف کینٹکی میں حشریات کے پروفیسر سٹیفن ڈوبسن (Stephen Dobson) کا کہنا ہے کہ ان مچھروں کو جنیاتی طور پر اس لئے تبدیل کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ مچھر بنی نوع انسان کے لئے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔

تحریر: انٹونیو ریگالڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors
Top