Global Editions

اب سمارٹ واچ اسی ہاتھ سے آپریٹ کریں جس پر پہنی ہے۔۔۔

سمارٹ گھڑیاں اگرچہ مارکیٹ دستیاب ہیں اور ان کو کسی حد تک عوام پزیرائی بھی حاصل ہے تاہم ابھی تک یہ گھڑیاں موثر کارکردگی کا ماڈل نہیں بن سکیں۔ سمارٹ گھڑیاں استعمال کرنے والوں کے لئے ایک قباحت یہ سامنے آئی ہے کہ وہ ایک ہاتھ میں گھڑی پہنتے ہیں اور اسے آپریٹ کرنے کے لئے انہیں دوسرا ہاتھ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اس قباحت کو دور کرنے کے لئے کارنج میلن یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے ایسا طریقہ دریافت کیا ہے جس کے ذریعے سمارٹ گھڑیاں اسی ہاتھ سے آپریٹ کی جا سکیں گی جس ہاتھ میں انہیں پہنا گیا ہو۔ سمارٹ گھڑیاں استعمال کرنے والے اپنے ہاتھ کی مدد سے مختلف آپشنز پر کلک کرتے ہیں، تصاویر یا دیگر ڈاکومنٹس دیکھنے کے لئے انہیں انگلیوں کے پھیلاؤ کی مدد سے انلارج کرتے ہیں تاہم اب انہیں اس مقصد کے لئے دوسرا ہاتھ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ سمارٹ گھڑیوں کے صارفین گھڑی میں نصب سینسرز اور ایکسلرومیٹرز وغیرہ کی مدد سے پانچ مختلف اشاروں کی مدد سے اپنی ضرورت کے اقدامات اٹھاتے ہیں جیسے سام سنگ گئیر سمارٹ گھڑیوں کے صارفین کلک، پنچ، انلارجمنٹ وغیرہ کے لئے ہاتھ سے مختلف اشارے کرتے ہیں اب کارنج میلن یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے ایسا طریقہ دریافت کیا ہے جس کی مدد سے اسی ہاتھ سے وہ اشارے کئے جا سکتے ہیں جس ہاتھ میں سمارٹ گھڑی باندھی گئی ہو۔ اب صارفین کلک کے لئے ہوا ہی میں انگلی کے اشارے کی مدد سے مطلوبہ ایپلی کیشن پر کلک کر سکیں گے اور اسی طرح تصاویر یا ڈاکیومنٹس کی انلارجمنٹ کے لئے صارفین ہوا ہی میں انگوٹھے اور پہلی انگلی کی جانب سے پھیلاؤ کا اشارہ کر کے مطلوبہ مقاصد حاصل کر سکیں گے۔ اس حوالے کارنج میلن یونیورسٹی کے شعبہ Human-Computer Interaction میں پی ایچ ڈی کے طالبعلم جولین انڈریس روماس روجاس (Julian Andres Ramos Rojas) کا کہنا ہے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ صارفین کے ہاتھوں کے اشارے دوسروں لوگوں کی آنکھوں کو برے نہ لگیں اور صارف کے مطلوبہ مقاصد بھی پورے ہو جائیں۔ اس مقصد کے لئے تحقیق کاروں نے سمارٹ گھڑی میں موجود سینسرز کو ہاتھ کی حرکت سے مربوط کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ صارف کو دوسرا ہاتھ استعمال کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ تحقیق کاروں نے اپنی تیار کردہ تکنیک پر تجربات کے لئے دس رضا کاروں کی خدمات حاصل کیں اور مختلف تجربات کئے اور اس کے 87 فیصد نتائج درست نکلے۔ تحقیق کاروں کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کی حتمی تیاری اور اس کی مارکیٹ تک دستیابی تک درست نتائج کی شرح 95 فیصد ہو جائیگی۔ سمارٹ گھڑیوں کی ٹیکنالوجی نسبتاً نئی ہے اور اس ٹیکنالوجی کےبانی بھی ٹیکنالوجی میں مزید جدت لانے کے لئے مختلف طرح کے تجربات میں مصروف ہیں، ان حالات میں کارنج میلن یونیورسٹی کے تحقیق کاروں کی جانب سے تیار کردہ تکنیک سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے اسی شعبہ میں کام کرنے والی کمپنی Thalmic Labs کے چیف ایگزیکٹو سٹیفن لیک (Stefhen Lake) کا کہنا ہے کہ ہمیں اب یہ موقع میسر آیا ہے جس کے ذریعے ہم سمارٹ گھڑیوں کے کنٹرول کے حوالے سے متبادل یا شارٹ کٹ فراہم کر سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ متبادل کس طرح اشاروں کو کنٹرول کر سکتا ہے۔ تحقیق کاروں کا ماننا ہے کہ ان کی تحقیق سے مریضوں کو فائدہ پہنچے گا اور خاص طور پر وہ مریض جو کسی وجہ سے حرکت نہیں کر سکتے یا ان کی حرکت محدود ہو چکی ہے۔ وہ اس تکنیک کی مدد سے نہ صرف سمارٹ واچز بلکہ لیپ ٹاپ اور فون بھی استعمال کر سکیں گے۔

تحریر: سگنے بریویسٹر (Signe Brewster)

Read in English

Authors
Top