Global Editions

اب سالٹ ری ایکٹرز نیوکلئیر ری ایکٹرز کی جگہ لیں گے

بہت سے لوگ ایٹمی توانائی پر بھی ماحولیاتی آلودگی پھیلانے کے حوالے سے اسی طرح اعتراض کرتے ہیں جس طرح انہیں کوئلے اور گیس سے توانائی حاصل کرنے پر اعتراض ہے لیکن اب سائنسدانوں نے ان کے اس اعتراض کا بھی حل ڈھونڈ لیا ہے اب مولٹن سالٹ ری ایکٹر (Molten Salt Reactor) پر تحقیق ہو رہی ہے جس میں تھوریئم Thoreum) (کو بطور ایندھن استعمال کیا جائے گا۔ نئی تحقیق بتاتی ہے کہ یہ نیوکلیائی توانائی ری ایکٹر سے بھی کہیں زیادہ محفوظ اور صاف ماحول فراہم کرتاہے اور اس سے ماحولیاتی آلودگی کو کوئی خطرہ نہیں۔ یہ ری ایکٹر 2020 ء تک مارکیٹ میں آجائے گا۔ سالہاسال سے سائنسدان مولٹن سالٹ ری ایکٹر بنانے کے منصوبے پر کام کر رہے تھے جو ٹھوس ایندھن کے راڈز استعمال کرنے کی بجائے مائع ایندھن استعمال کریں تاکہ محفوظ نیوکلیائی توانائی حاصل کی جاسکے۔ حالیہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ متبادل نیوکلئیر ری ایکٹر کی تعمیر آخری مراحل میں ہے۔ تجرباتی طور پر یورپی کمیشن کے تحت تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیز کے کنسورشیم نے مولٹن سالٹ ری ایکٹر کے حفاظتی فوائد بتانے کیلئے ایک مظاہرے کا اہتمام کیا ہے جس کا نا م مولٹن سالٹ ری ایکٹر کے حفاظتی اقدامات یا سیموفارSamofar) (رکھا گیا ہے۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ مولٹن سالٹ ری ایکٹرکی سب سے پہلے تعمیر 1960 ء میں کی گئی۔ تاہم اب نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ اس پر تجربات کئے گئے ہیں اور اب اس پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ سالٹ ری ایکٹر سے کاربن پیدا نہیں ہوتا، اس میں مائع نمک کے ساتھ نیوکلئیر ایندھن ملا کر ریڈیو ایکٹو (Radioactive ) پیدا کیا جاتا ہے۔ اس میں یورینیم استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن یہ تھورئیم کو بطور ایندھن استعمال کیلئے بہترین ہے جو نیوکلئیر ایندھن کا متبادل ہے۔یہ ماحول دوست کے علاوہ یورینیم کی نسبت کہیں زیادہ سستا اورعام دستیاب ہے۔

مولٹن سالٹ ری ایکٹر کے مزید حفاظتی فوائد یہ ہیں کہ اس کا ایندھن مائع شکل میں ہوتا ہے اور حرارت سے پھیلتاہے۔ جس سے نیوکلیائی ردعمل کی شرح سست ہوتی ہے،انہیں خود بھی چلایا جا سکتا ہے، یہ باتھ ٹب کی طرح کے ہوتے ہیں جن کی تہہ میں نکاس کا راستہ ہوتاہے۔ اگر کچھ غلط ہوتا ہے تو جما ہوا پلگ خودبخود پگھل جاتاہے اور ری ایکٹر کے نیچے موجود ایندھن زیر زمین کنٹینر میں چلا جاتا ہے۔جب تکمولٹن سالٹ ری ایکٹر کے فوائد کو نہیں سمجھا جاتا اس وقت تک یہ تحقیق کی حالت میں ہی رہے گا۔ فوکوشیما (Fukushima)کی گیس پاور پلانٹ کی تباہی کے بعد بہت سرمایہ داروں کو متبادل پر سرمایہ کاری پر بہت مشکل سے راضی کیا جاسکے گا۔ سیموفار ایسے ری ایکٹر پر توجہ دے رہی ہے جو ہلکے پانی کے ری ایکٹر سے زیادہ تیز چلے اور نیوکلئیر فضلے سے فوسل (Fossile) عناصر کو الگ کرسکے۔ مائع ایندھن اور تھیورئیم پر انحصار کرنے والے ری ایکٹر کی زیادہ ترقی یافتہ شکل چین میں موجود ہے۔ جو اس کا پہلا نمونہ اگلے چند سالوں میں لانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

تحریر: رچرڈ مارٹن

عکاسی: PING ZHU

Read in English

Authors

*

Top