Global Editions

ابھی صبر کریں: اشیاء کی ترسیل کے لئے ڈرونز کا استعمال فی الحال ممکن نہیں

ڈرونز کو کمرشل مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے خواہشمندوں کو ابھی انتظٓار کرنا ہو گا کیونکہ ابھی ڈرون سروسز کو قانونی دائرہ عمل میں لانے کےلئے دوسال کا عرصہ درکار ہے۔ لہذا ابھی یہ مت سوچیں کہ آپ کو پزا ڈلیوری ڈرونز کے ذریعے فوری طور پر ملنا شروع ہو جائیگی۔ بغیر پائیلٹ کے اڑنے والے ان ڈرونز کو بہت زیادہ عوامی پزیرائی حاصل ہوئی ہے اور ان ڈرونز کو کمرشل مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی خواہش رکھنے والے افراد بھی بے شمار ہیں تاہم ابھی اس امر کی اجازت دینے میں حکام کو بہت کام کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں اس امر کا بھی جائزہ لینا ہے کہ کس طرح ڈرونز کے اس فضائی سفر کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اشیاء کی ترسیل کے لئے ڈرون تیار کرنے والوں میں گوگل اور ایمزون سرفہرست ہیں ان کے ساتھ ساتھ UPS اور FedEx بھی ان اداروں میں شامل ہیں جو ایسے ڈلیوری ڈرونز کے لئے ؎ٹیکنالوجی تیار کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے اہم پیشرفت یہ ہے کہ امریکی سینٹ کی ٹرانسپورٹ کمیٹی نے ایک بل کا مسودہ تیار کیا ہے جس کی وجہ سے ڈلیوری ڈرونز کو قانونی دائرہ عمل میں لانے کی راہ دو برس کے اندر ہموار ہو جائیگی۔ چند ناقدین کا ماننا ہے کہ اشیاء کی ترسیل کے لئے استعمال ہونے والے ڈرونز سے نہ صرف قیمتی سامان کے کھو جانے یا چوری ہونے کا امکان رہیگا اس کے ساتھ ساتھ ان ڈرونز کو گولی مار کر گرایا بھی جا سکتا ہے۔ گوگل کے ساتھ ایسے ہی ڈرونز کی تیاری پر کام کرنے والے ایم آئی ٹی کے پروفیسر نکولس رائے (Nicholas Roy) کا کہنا ہے کہ اس بات کا تعین بھی ضروری ہے کہ یہ ڈلیوری ڈرونز کس حد تک ہارڈ وئیر اور سافٹ وئیر کے اعتبار سے قابل اعتماد ہیں۔ ان کا ماننا ہے ہے کہ ڈلیوری ڈرونز آئل فیلڈز جیسے علاقوں میں کام کر سکتے ہیں تاہم گنجان آباد علاقوں میں ان ڈرونز کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔

Read in English

Authors
Top