آئی بی ایم نے میڈیکل سے متعلق اربوں تصاویر کیوں خریدیں؟

آئی بی ایم نے اپنی معروف کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑے پیمانے پر میڈیکل تصاویر جمع کر کے ان کی بنیاد بیماری پر تشخیص کے منصوبے کا آغاز کر دیا ہے ۔کیونکہ آئی بی ایم کے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اگلا دور میڈیکل تصاویر پر عمل درآمد کاہو گا۔ آئی بی ایم کا کہناہے کہ جدید کمپیوٹر میں اس کی مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی کی مدد سے ، بڑے پیمانے پر میڈیکل تصاویرکو مختلف امراض کی تشخیص کیلئے استعمال کیا جاسکتاہے اب واٹسن نے ڈاکٹروں کیلیئے بیماری کی تشخیص کو زیادہ صحیح اور تیز بنانے میں مدد کے لیے اپنی توجہ اس پر مرکوز کر لی ہے۔

آئی بی ایم نے پچھلے ہفتے یہ اعلان کیا کہ وہ کروڑوں ڈالر سے مرج ہیلتھ کیئر کمپنی خریدے گی ۔ اگر یہ ڈیل طے پا جاتی ہے تو یہ اس سال کی تیسری ہیلتھ کیئر کمپنی ہو گی جو آئی بی ایم خریدے گی ۔ مَرج تمام قسم کی میڈیکل تصاویر امریکہ کے کم وبیش 7500 ہسپتالوں اور کلینکوں کے ساتھ ساتھ فارما سیوٹیکلز کمپنیوں اور کلینکل تحقیق کے اداروں میں استعمال ہو رہی ہیں۔، آئی بی ایم کے واٹسن ہیلتھ گروپ کے چیف سائنس آفیسر شہرام عبیدالہٰی کے مطابق، مرج کی تصویروں پر مبنی ڈیٹا سیٹ 30 ارب تصاویرپر مشتمل ہے جو کہ آئی بی ایم کے لیے پرکشش ہے کیونکہ کمپیوٹر بڑ ی تعداد میں مواد اکٹھا کرنا سکھائے گا۔ مختلف مواد ، جس میں گمنام، کتابی میڈیکل ریکارڈز شامل ہیں یہ ڈیٹا ڈاکٹرکو اپنے مریض کے علاج میں مدد کرے گا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ مستقبل قریب کی خودکار تصویری کی ایپلی کیش’کے ذریعے’مالا نوما‘‘جیسی جلدی کینسرکی بیماری کی تشخیص ایک اہم کامیابی ہے ۔ عمومی طور پر مالا نوما کی تشخیص کرنا مشکل عمل ہے کیونکہ اس میں مریض میں بہت نمایاں پیچیدگیاں ہوتی ہیں۔ کمپیوٹر کے اندر بہت ساری تصاویرڈالنے سے یہ ممکن ہو گا کہ بہت نازک بیماری کے متعلق ضروری فیچرز کی شناخت کیا جائے۔ آئی بی ایم ٹیکنالوجی کی جھلکیاں ایک معلوماتی ذخیرہ میں مریض کے نئے امیج (تصویر) کو بہت ساری دوسری تصویروں سے موازنے اور پھر تیزی سے کتابی بنیاد پر ریکارڈز پر تصویروں کے چننے اور ضروری معلومات دینے، تشخیص اور مخفی علاج کے قابل بنائیں گی۔

آئی بی ایم کا کہنا ہے کہ طبی تشخیص کے بڑے ذخیرہ علوم کے استعمال میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ نظام کو سکھانے کے لیے بہت سارا ضروری مواد انفرادی درسگاہوں میں علیٰحدہ پڑا ہے اور حکومتوں کے قواعد و ضوابط اس معلومات کو منتقل کرنے میں رکاوٹ پیدا کر سکتی ہیں۔ آئی بی ایم کا مرج کی ا ربوں طبی تصویریں حاصل کرنا اس مسئلہ کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

Authors

*

Top